کئی عکس ماہ تمام تھے مجھے کھا گئے
وہ جو خواب سے لب بام تھے مجھے کھا گئے
۔
کوئی راکھ تھی جو سلگ رہی تھی ادھر ادھر
وہ جو رنگ سایۂ شام تھے مجھے کھا گئے
۔
وہ جو آنسوؤں کی زبان تھی مجھے پی گئی
وہ جو بے بسی کے کلام تھے مجھے کھا گئے
۔
وہ جو منزلوں کی دعائیں تھیں نہیں لے گئیں
وہ جو راستے کے سلام تھے مجھے کھا گئے
۔
وہ جو بکھرے بکھرے سے لوگ تھے مرے روگ تھے
وہ جو متصل در و بام تھے مجھے کھا گئے
۔
کبھی یہ غلط کبھی وہ غلط کبھی سب غلط
یہ خیال پختہ جو خام تھے مجھے کھا گئے
لیاقت علی عاصم