MOJ E SUKHAN

کاش سمجھتے اہل زمانہ

کاش سمجھتے اہل زمانہ
کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ

عشق کا شیوہ حسن کی فطرت
ایک حقیقت ایک فسانہ

راہ وفا دشوار بہت ہے
سوچ سمجھ کر پاؤں بڑھانا

تم نہ ہو جس کے کون ہو اس کا
جس کے ہوئے تم اس کا زمانہ

رہرو راہ عشق و محبت
جان تو دینا لب نہ ہلانا

پہلوئے گل میں خار نہاں ہیں
گلچیں اپنا ہاتھ بچانا

ہم نے تو وصفیؔ پایا ہے ان کو
جلوہ بہ جلوہ خانہ بہ خانہ

عبدالرحمان خان بہرائچی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم