MOJ E SUKHAN

کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا

غزل

کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا
مجھ سے کوئی خیال سنوارا نہیں گیا

مل کے لگا ہے آج زمانے ٹھہر گئے
تجھ سے بچھڑ کے وقت گزارا نہیں گیا

طوفان میں بھی ڈوب نہ پائی مری انا
ڈوبا مگر کسی کو پکارا نہیں گیا

خوشیوں کے قہقہے ہیں ہر اک سمت گونجتے
لگتا ہے کوئی شہر میں مارا نہیں گیا

انسان وحشیوں کی طرح ہیں کہ آج تک
مفہوم زندگی کا ابھارا نہیں گیا

آرائش جمال کسی کام کی نہیں
روئے عمل کو جب کہ نکھارا نہیں گیا

طاہرہ جبین تارا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم