MOJ E SUKHAN

کتنے خیال رات کی پلکوں میں آئے تھے

غزل

کتنے خیال رات کی پلکوں میں آئے تھے
کرنوں نے سب چراغ سویرے بجھائے تھے

چلنا پڑا ہوا کو بھی دامن سنبھال کر
پھولوں کے ساتھ راہ میں کانٹے بچھائے تھے

پانی بچا کے رکھ لیا ویرانیوں کے بیچ
کس نے ہزاروں کوس سے پنچھی بلائے تھے

سرسبز وہ ہی پیڑ ہوا موڑ کی طرح
جس نے ہوا میں پنکھ سے پتے اڑائے تھے

رسم و رواج کی امر بیلوں نے ڈس لیا
ہم نے ازل سے خود ہی یہ بندھن بنائے تھے

تارے گئے کہاں یہ وہیں کے وہیں رہے
دن سے چھپائے جو وہی شب نے دکھائے تھے

بدلے لباس آدمی ہر رت کے رنگ میں
پتھر کے یگ میں آج کے کپڑے سلائے تھے

باہر فقیر نے کہیں ڈیرا لگا لیا
بازار سارے شہر کے ہم نے سجائے تھے

الفاظ کا ہجوم تھا پہچانتے کسے
کتنے ہی بن بلائے کتابوں میں آئے تھے

دیپک قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم