MOJ E SUKHAN

کر نہ پایا جب پذیرائی نصیب اچھی طرح

کر نہ پایا جب پذیرائی نصیب اچھی طرح
کیا بھلا کرتا مسیحائی طبیب اچھی طرح

میری کمزوری رہا تجدید _الفت پر یقیں
جانتا تھا میرا ہرجائی حبیب اچھی طرح

شرم کے مارے نہ کہہ پایا جو ہم سے آج تک
غیر سے وه بات کہلائی عجیب اچھی طرح

دور جانے کا مرے غم اس کے اشکوں سے کھلا
جب دم _رخصت مرے آئی قریب اچھی طرح

در عدالت ،انسداد عشق میں پیشی کے وقت
کرتا ہے اعلان رسوائی نقیب اچھی طرح

اک ادیبہ مبتدی مقبول کرنے کے لیے
کر رہا ہے بزم آرائی ادیب اچھی طرح

مقبول زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم