MOJ E SUKHAN

کرتے رہیں وابستہ ان سے چاہے جو افسانے لوگ

غزل

کرتے رہیں وابستہ ان سے چاہے جو افسانے لوگ
عشق میں رسوائی کی پروا کرتے ہیں کب دیوانے لوگ

کس کو صدائیں دیتا ہے تو شہر تمنا میں اے دل
کون یہاں ہے تیرا ساتھی سبھی تو ہیں بیگانے لوگ

کس کو سنائیں حال تباہی کس کو دکھائیں زخم جگر
دور ستم ہے رحم کہاں اب ظلم کے ہیں دیوانے لوگ

شیخ و برہمن کی باتوں میں دیر و حرم کے جھگڑے ہیں
چال میں ان کی پھر کیوں آئیں ہم جیسے مستانے لوگ

فیض جنوں سے جاگ اٹھا ہے آج مقدر صحرا کا
پھول کھلاتے ہیں اس میں بھی دیکھیے کچھ دیوانے لوگ

بچتے ہوئے سب سے آئے تھے محفل زنداں کی جانب
مل ہی گئے اف ہم کو یہاں بھی کچھ جانے پہچانے لوگ

اہل جنوں کے فیض سے کشفی دنیا میں بیدار ہی ہے
بات پتے کی کہہ دیتے ہیں اکثر یہ دیوانے لوگ

کشفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم