MOJ E SUKHAN

کوئی انعام وفا ہے کہ صلا ہے کیا ہے

کوئی انعام وفا ہے کہ صلا ہے کیا ہے
اس نے یہ درد محبت جو دیا ہے کیا ہے

بھولنے کو تجھے دل کیوں نہیں راضی ہوتا
تیری یادوں میں کسک ہے کہ مزہ ہے کیا ہے

کس نے دروازے پہ یہ رات گئے دستک دی
یاد اس کی ہے کہ وہ خود کہ ہوا ہے کیا ہے

تو جو مل جاتا ہے ہر بار بچھڑ کر مجھ کو
یہ مقدر ہے کرم ہے کہ دعا ہے کیا ہے

آج کیا پھر کسی ارمان نے دم توڑ دیا
شور کیوں دل سے یہ جاویدؔ اٹھا ہے کیا ہے

جاوید نسیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم