MOJ E SUKHAN

کوئی تو ترک مراسم پہ واسطہ رہ جائے

غزل

کوئی تو ترک مراسم پہ واسطہ رہ جائے
وہ ہم نوا نہ رہے صورت آشنا رہ جائے

عجب نہیں کہ مرا بوجھ بھی نہ مجھ سے اٹھے
جہاں پڑا ہے زر جاں وہیں پڑا رہ جائے

میں سوچتا ہوں مجھے انتظار کس کا ہے
کواڑ رات کو گھر کا اگر کھلا رہ جائے

کسے خبر کہ اسی فرش سنگ پر سو جاؤں
مرے مکان میں بستر مرا بچھا رہ جائے

ظفرؔ ہے بہتری اس میں کہ میں خموش رہوں
کھلے زبان تو عزت کسی کی کیا رہ جائے

صابر ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم