MOJ E SUKHAN

کوئی دھڑکن کوئی الجھن کوئی بندھن مانگے

غزل

کوئی دھڑکن کوئی الجھن کوئی بندھن مانگے
ہر نفس اپنی کہانی میں نیا پن مانگے

دشت افکار میں ہم سے نئے موسم کا مزاج
بجلیاں تنکوں کی شعلوں کا نشیمن مانگے

رات بھر گلیوں میں یخ بستہ ہواؤں کی صدا
کسی کھڑکی کی سلگتی ہوئی چلمن مانگے

زہر سناٹے کا کب تک پئے صحرائے سکوت
ریت کا ذرہ بھی آواز کی دھڑکن مانگے

کالی راتوں کے جہنم میں بدن سوکھ گیا
دامن صبح کی ٹھنڈک کوئی برہن مانگے

حبس وہ ہے کہ نظاروں کا بھی دم گھٹتا ہے
کوئی سوندھی سی مہک اب مرا آنگن مانگے

زندگی جن کے تصادم سے ہے زخمی فرحتؔ
دل انہیں ٹوٹے ہوئے سپنوں کا درپن مانگے

فرحت قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم