غزل
کوئی سمجھا نہیں لگی دل کی
بات دل میں سدا رہی دل کی
کتنے نایاب ہو گئے وہ لوگ
جو دعا لیتے تھے دکھی دل کی
مفلسی میں بھی دن کٹیں اچھے
ہو جو حاصل تونگری دل کی
ان دیوں کو بھی تو کرو روشن
دور کر دیں جو تیرگی دل کی
دل نہ چھوڑے اسے کہیں کا بھی
بات مانے جو آدمی دل کی
دوست سمجھا دیوں کا آندھی کو
اور کیا ہوگی سادگی دل کی
شہر سجتے رہے مگر ہاتفؔ
بزم سونی پڑی رہی دل کی
ہاتف عارفی فتح پوری