MOJ E SUKHAN

کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہے

غزل

کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہے
پریشانی کی رت جاتی نہیں ہے

ہمارے خواب چوری ہو گئے ہیں
ہمیں راتوں کو نیند آتی نہیں ہے

کوئی تتلی کماں داروں کے ڈر سے
فضا میں پنکھ پھیلاتی نہیں ہے

ہر اک صورت ہمیں بھاتی نہیں ہے
کوئی صورت ہمیں بھاتی نہیں ہے

جس آزادی کے نغمے ہیں زباں پر
وہ آزادی نظر آتی نہیں ہے

بدن بے حرکت و بے حس پڑے ہیں
لہو کی بوند گرماتی نہیں ہے

مسلسل پوش کی چابک زنی سے
مری آشفتگی جاتی نہیں ہے

زوال فکر و فن کی بخشؔ تہمت
جلال حرف پر آتی نہیں ہے

بخش لائلپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم