MOJ E SUKHAN

کوئی ہستی یہاں میری شریک غم نہیں ہوتی

کوئی ہستی یہاں میری شریک غم نہیں ہوتی
وہ ایک تیری نظر ہے جو کبھی برہم نہیں ہوتی

نہیں آتی کسی کو موت دنیائے محبت میں
چراغ زندگی کی لو یہاں مدھم نہیں ہوتی

امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں سہارے چھوٹ جاتے ہیں
مگر تیری محبت کی تمنا کم نہیں ہوتی

نہیں ہوتی وفا کی منزلیں آساں کبھی اس پر
محبت میں جو ہستی آشنائے غم نہیں ہوتی

میرے سوز دروں نے آنکھ میں آنسو نہیں چھوڑے
جہاں شعلے بھڑکتے ہوں وہاں شبنم نہیں ہوتی

ہمیں دنیا سے امید وفا ہو کس لئے آخر
یہ دنیا تو کسی کی بھی شریک غم نہیں ہوتی

مآل کار بھی معلوم ہے جب مجھ کو ہستی کا
الٰہی آرزوئے زندگی کیوں کم نہیں ہوتی

کہاں ہوتی ہے معراج نیاز بندگی اس کو
ترے در پر جبین شوق جس کی خم نہیں ہوتی

سرور بادہ و عرفاں کبھی حاصل نہیں ہوتی
نگاہ ساقیٔ محفل اگر پیہم نہیں ہوتی

گزر جاؤں گا میں ہستی کی ہر دشوار منزل سے
کسی درویش کی نسبت بھی صادقؔ کم نہیں ہوتی

صادق دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم