کون سے در پر اسے دینی ہے دستک، یاد ہے
ہر گدا کو اپنی خودداری کا گاہک یاد ہے
یاد ہے بھیگا تھا تیرا جسم جب بارش کے بعد
کس طرح توڑی تھی میں نے اپنی عینک، یاد ہے؟
بھول بیٹھا ہوں کتابوں اور کلاسوں کے سبق
تم نے لیکن جو پڑھایا تھا وہ اب تک یاد ہے
میں بتاتا ہوں تمہاری یاد رکھتا ہوں کہاں
یہ میرے سینے میں جو ہوتی ہے دھک دھک "یاد ہے”
اس لیے چپ چاپ ہیں سب آدمی اس ظلم پر
ان کو مظلوموں کا مذہب اور مسلک یاد ہے
شہر میں آئے تو مجھ سے مل کے جاتی ہے رضا
بدنصیبی کو ازل سے میری بیٹھک یاد ہے
محمد رضا حیدری