MOJ E SUKHAN

کچا پھل تھا اونچی شاخ

کچا پھل تھا اونچی شاخ
کیسے ہاتھ میں آتی شاخ

آخر ایندھن بنتی ہے
بوڑھے پیڑ کی سوکھی شاخ

جب صیاد نے وار کیا
دونوں تڑپے ، پنچھی ، شاخ

پتے شور مچاتے ہیں
کس گلچیں نے پکڑی شاخ

کلیاں کھلنے والی تھیں
بے دردی نے کاٹی شاخ

اس کے ہاتھ کا لمس ملا
سوکھے پیڑ سے پھوٹی شاخ

اُس بن جیون ایسے ہے
ارشد جیسے ٹوٹی شاخ

ارشد محمود ارشد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم