MOJ E SUKHAN

کھو گیا میرا ہمسفر لوگو

کھو گیا میرا ہمسفر لوگو
کیسے تنہا کروں سفر لوگو

ماں کے اشکوں میں بہہ گیا ہو گا
مجھ کو ملتا نہیں ہے گھر لوگو

جس کی ضامن تھی آیت الکرسی
جل گیا دل کا وہ نگر لوگو

میں ہوں زیرِ اثر محبت کے
مجھ پہ ہو گا نہیں اثر لوگو

کل جو سر پر سوار تھے میرے
آج لگتے ہیں درد سر لوگو

مائیں تو آسماں پہ جا کر بھی
رکھتی ہیں بچّوں کی خبر لوگو

کیا خبر ہو مجھے زمانے کی
میں تو خود سے ہوں بے خبر لوگو

میرے محبوب کا ہے در جس پر
میں جھکاتی ہوں اپنا سر لوگو

جز محبت کے کیا تھا میرے پاس
کیسی کرتی اگر، مگر لوگو

وہ جو بنتے ہیں چارہ گر میرے
مجھ کو لگتا ہے ان سے ڈر لوگو

کسی انساں کی چاپلوسی کا
مجھ کو آتا نہیں ہنر لوگو

میں خطا وار ہوں محبت کی
آخرِ کار ہوں بشر لوگو

جانتی ہوں کہ ماری جاؤں گی
میں نے لکھ ڈالا سچ اگر لوگو

ثبین سیف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم