MOJ E SUKHAN

کہاں کہاں سے گزر رہا ہوں

غزل

کہاں کہاں سے گزر رہا ہوں
میں آندھیوں میں بکھر رہا ہوں

کسی بھی صورت نہ چین پاؤں
یہ کس تجسس میں مر رہا ہوں

میں سرخیوں میں کہاں سے ہوتا
میں حاشیے کی خبر رہا ہوں

سبھوں کو جانا ہے پار لیکن
میں پار جانے سے ڈر رہا ہوں

نہ میری منزل نہ کوئی جادہ
ازل سے گرد سفر رہا ہوں

مجھے تو مرنا تھا غم میں فکریؔ
میں غم میں جل کر نکھر رہا ہوں

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم