MOJ E SUKHAN

کہہ دے من کی بات تو گوری کاہے کو شرماتی ہے

غزل

کہہ دے من کی بات تو گوری کاہے کو شرماتی ہے
شام ڈھلے تجھ کو کس اپرادھی کی یاد ستاتی ہے

تجھ کو مجھ سے پریم ہے تو بے کل ہے میری چاہت میں
تیری پایلیا کی جھن جھن سارے بھید بتاتی ہے

کھول کے گھونگھٹ کے پٹ پیار سے کرتی ہے پرنام مجھے
بھور بھئے جب نیر بھرن کو وہ پنگھٹ پر آتی ہے

باندھ گئی ہے مجھ سے اے دل بندھن پریت کی ڈوری سے
گاؤں کی وہ نار جو اپنے جوبن پر اتراتی ہے

کچھ تو بتا دو کون ہے جو تیرے منوا کو لوٹ گیا
کس کی خاطر تو معبد میں دیپ جلانے جاتی ہے

ناصرؔ روح میں گھل جاتی ہے مست مہک مادھوری کی
جب سکھیوں کے سنگ وہ ناری ندیا بیچ نہاتی ہے

ناصر شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم