MOJ E SUKHAN

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے
کہاں تک میں دیکھوں یہ منظر اکیلے

گلی میں ہواؤں کی سرگوشیاں ہیں
گھروں میں مگر سب صنوبر اکیلے

نمائش ہزاروں نگاہوں نے دیکھی
مگر پھول پہلے سے بڑھ کر اکیلے

اب اک تیر بھی ہو لیا ساتھ ورنہ
پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے

جو دیکھو تو اک لہر میں جا رہے ہیں
جو سوچو تو سارے شناور اکیلے

تری یاد کی برف باری کا موسم
سلگتا رہا دل کے اندر اکیلے

ارادہ تھا جی لوں گا تجھ سے بچھڑ کر
گزرتا نہیں اک دسمبر اکیلے

زمانے سے قاصرؔ خفا تو نہیں ہیں
کہ دیکھے گئے ہیں وہ اکثر اکیلے​

غلام محمد قاصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم