MOJ E SUKHAN

کیا سے کیا ہو گیا محبت میں

کیا سے کیا ہو گیا محبت میں
میں فنا ہو گیا محبت میں

کتنی اچھی گزر رہی تھی کہ میں
مبتلا ہوگیا محبت میں

گرد آ لود تھا بہت مرا دل
آئنہ ہو گیا محبت میں

میں کہ محدود تھا بس ایک جگہ
جا بجا ہو گیا محبت میں

دھیان کچھ اتنا اس کا تھا خود سے
میں جدا ہو گیا محبت میں

یو اسے میں نے آزمایا کہ میں
بے وفا ہو گیا محبت میں

کوچہء یار میں نسیمِ سحر
نقشِ پا ہو گیا محبت میں

نسیم سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم