MOJ E SUKHAN

کیسا وہ چپ چاپ کھڑا ہے دیکھو تو

کیسا وہ چپ چاپ کھڑا ہے دیکھو تو
جس نے ہر بہتان گھڑا ہے دیکھو تو

کچا ہی ہر بار گھڑا ہے دیکھو تو
یا دریا کا پاٹ بڑا ہے دیکھو تو

دستک تو مانوس ہے شاید وہ ہی ہو
دروازے پر کون کھڑا ہے دیکھو تو

کس کو چھوڑے اور کسے اپنائے دل
مشکل میں یہ آن پڑا ہے دیکھو تو

تم ے جو اک پھول تھا بھیجا پیلا سا
خنجر سا وہ آن گڑا ہے دیکھو تو

مصلحتوں کا جھوٹ لبادہ اوڑھے ہے
سچ ہی اب بھی دار چڑھا ہے دیکھو تو

پہلے تو ہر بات پہ سر خم ہوتے تھے
کوئی اب کی بار اڑا ہے دیکھو تو

ظلمت کی منہ زور ہوا سے عظمی جی
ننھا سا اک دیپ لڑا ہے دیکھو تو

عظمی جون

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم