غزل
کیسے چپ چاپ سے نینوں میں ہے آتا ساون
آگ برہا کی ہر اک من میں لگاتا ساون
ترے صدقے ، کہ غم عشق کا پردہ رکھا
ساتھ مل کر مرے ، آنسو ہے بہاتا ساون
اس کی آمد سے پریشاں ہیں غریبان وطن
اہل غربت پہ سدا ، قہر ہے ڈھاتا ساون
اہل ثروت میں رہی اس کی پذیرائی بہت
جاہ و حشمت کا نشہ ، اور بڑھاتا ساون
اہل دل ، اہل جنوں کے لئے سوغات ہے یہ
ہے کہیں ہجر ، کہیں سیج سجاتا ساون
دل کے آنگن پہ برستی ہوئی پہلی بارش
جوت چاہت کی ہر اک دل میں جگاتا ساون
دشت جاں پہ، یہ برس کر اسے سیراب کرے
گھاؤ روح کے بھی کبھی ، کاش مٹاتا ساون
اس کی آمد سے مہکتی ہے وطن کی مٹی
دیس کی خوشبو ، فضاؤں میں لٹاتا ساون
بے وطن صوفیہ ، اک بوند کو ترسے اس کی
دل میں یادوں کے کئ پھول کھلاتا ساون
صوفیہ حامد خان