MOJ E SUKHAN

کیوں مسلسل ہی فنا کے سامنے رکھا گیا

کیوں مسلسل ہی فنا کے سامنے رکھا گیا
مجھ کو میری انتہا کے سامنے رکھا گیا

ڈھونڈتا ہی رہ گیا منصف اسے تعزیر میں
جرم میرا جب سزا کے سامنے رکھا گیا

جب کبھی ساحل کی جانب رخ سفینے کا ہوا
اک طلاطم ناخدا کے سامنے رکھا گیا

پھر سبھی دست,دعا بے ساختہ اٹھتے گئے
مدعا میرا خدا کے سامنے رکھا گیا

بارشوں نے رکھ لیا آخر مرے غم کا بھرم
جب ان آنکھوں کو گھٹا کے سامنے رکھا گیا

تھرتھرائی تھی دیے کی لو ہوا کے سامنے
مجھ کو پھر انصر اٹھا کے سامنے رکھا گیا

انصر رشید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم