کیوں مسلسل ہی فنا کے سامنے رکھا گیا
مجھ کو میری انتہا کے سامنے رکھا گیا
ڈھونڈتا ہی رہ گیا منصف اسے تعزیر میں
جرم میرا جب سزا کے سامنے رکھا گیا
جب کبھی ساحل کی جانب رخ سفینے کا ہوا
اک طلاطم ناخدا کے سامنے رکھا گیا
پھر سبھی دست,دعا بے ساختہ اٹھتے گئے
مدعا میرا خدا کے سامنے رکھا گیا
بارشوں نے رکھ لیا آخر مرے غم کا بھرم
جب ان آنکھوں کو گھٹا کے سامنے رکھا گیا
تھرتھرائی تھی دیے کی لو ہوا کے سامنے
مجھ کو پھر انصر اٹھا کے سامنے رکھا گیا
انصر رشید انصر