MOJ E SUKHAN

گاتھا پڑھ کر آتش دھونکی گنگا سے اشنان

غزل

گاتھا پڑھ کر آتش دھونکی گنگا سے اشنان
میں نے ہر یگ نذر گزاری ہر پیڑھی میں دان

دھیان لگا کر آنکھیں موندیں بیٹھا گھٹنے ٹیک
میٹھا لفظ بھجن بن اترا سچا شعر گنان

ماں دھرتی کو پیش‌‌‌ سخن کے رنگ برنگے پھول
بھاگ بھری کو بھینٹ سنہرے مصرعے کا لوبان

سایہ سچل شاہ کی اجرک روشن میر چراغ
امروہے سے اٹھ کر آئے ہم باغ ملتان

سیارے پر زردی اتری دریا مٹی خشک
ہاتھی پر ہودج کسواؤ ناقے پر پالان

اے دھرتی کے تیاگی اٹھ کر گھور خلا میں بیٹھ
اگلی گاڑی کی گھنٹی تک تو ہے اور رحمان

فرش لپیٹے تارے جھاڑے نرسنگے کی پھونک
پالن ہارا تو داتا ہے کر جو چاہے ٹھان

منظر آب و تاب سمیٹے شاید ہے موجود
لمس حقیقت عکس مجسم آوازوں پر کان

احمد جہانگیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم