گریونہی فکر کے اعصاب پہ پہرا ہوگا
زخمِ احساس ابھی اور بھی گہرا ہوگا
ہر طرف چھائے ہوئے ظلم کے کالے بادل
یہ اندھیرا تو ابھی اور گھنیرا ہوگا
یہ توقع ہی کہاں تھی کہ سیہہ رات کے بعد
بے خبر نیند میں مدہوش سویرا ہوگا
نسلِ انسان کی یہ کیسی سیہہ بختی ہے
عہدِ تشویش میں اب اس کا بسیرا ہوگا
روشنی ایسی کہ آنکھیں بھی نہ کھولی جائیں
مضطرب دید کو ابہام نے گھیرا ہوگا
گھر کی دہلیز پہ ہیں خوف کے نادیدہ قدم
شہرِ آشوب میں آسیب کا ڈیرا ہوگا
اب سرابوں میں بھی تسکینِ نظر کوئ نہیں
ہر قدم دھوپ میں جلتا ہوا صحرا ہوگا
مضمحل وقت کے ٹوٹے ہوئے آئینے میں
مسخ اقدار کا بگڑا ہوا چہرہ ہوگا
ساغرِ رنج و الم نور لبالب بھر لو
بادۂ درد کا رنگ اور سنہرا ہوگا
نورِ شمع نور