MOJ E SUKHAN

گھر سے باہر نکلے ہوئے تو گھر تک واپس آؤ بھی

غزل

گھر سے باہر نکلے ہوئے تو گھر تک واپس آؤ بھی
جیون ہی جب گھات میں ہو تو کہیں کہیں رک جاؤ بھی

اس کا کیا ہے وہ تو سب کا تم ہی اکیلے پھرتے ہو
اب تم اپنے اکیلے پن کو اپنا میت بناؤ بھی

آنکھیں نم تھیں اور وہ اکثر نام تمہارا لیتا تھا
جانے والا اب نہ رکے گا آ جاؤ بھی آ جاؤ بھی

تم کو کیسے بھلا سکتا ہے مے خانہ تو تم سے تھا
دیکھو جام و سبو چپ چپ ہیں آؤ ہاتھ بڑھاؤ بھی

کل ہی تو اقبال متینؔ جس نیم کے نیچے بیٹھا تھا
آج اس کا سایہ بھی نہیں ہے کوئی پیڑ اگاؤ بھی

اقبال متین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم