MOJ E SUKHAN

گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی

غزل

گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی
پیڑ پر ٹہنیاں نہیں ہوں گی

غم سے سمجھوتا کر لیا دل نے
اب یہاں سسکیاں نہیں ہوں

میں کہ دور جدید کی لڑکی
پاؤں میں بیڑیاں نہیں ہوں گی

واپسی کا ہے سوچنا بے سود
اب جلی کشتیاں نہیں ہوں گی

اب دیوں کو بچانا واجب ہے
آندھیاں مہرباں نہیں ہوں گی

بارشوں کے سفر پہ نکلے ہو
سر پہ اب چھتریاں نہیں ہوں گی

یہ مسلسل رہیں گی میرے ساتھ
ہجر میں چهٹیاں نہیں ہوں گی

دست و بازو بنا ہے بھائی مرا
کوششیں رائیگاں نہیں ہوں گی

یا قلم ٹوٹ جائے گا بلقیسؔ
یا مری انگلیاں نہیں ہوں گی

بلقیس خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم