MOJ E SUKHAN

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی

ایک تم سے کیا محبت ہو گئی
ساری دنیا سے عداوت ہو گئی

یاس ہی اس دل کی فطرت ہوگئی
آرزو جو کی وہ حسرت ہو گئی

جو مری ہونی تھی حالت ہو گئی
خیر اک دنیا کو عبرت ہو گئی

دل میں وہ داغوں کی کثرت ہو گئی
رُونما اک شان وحدت ہو گئی

آگئے پہلو میں راحت ہو گئی
چل دیئے اٹھ کر قیامت ہو گئی

عشق میں ذلت بھی عزت ہو گئی
لی فقیری با دشاہت ہو گئی

سوگ میں یہ کس کی شرکت ہو گئی
بزمِ ماتم بزمِ عشرت ہو گئی​

خواجہ عزیز الحسن مجذوب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم