غزل
ہر سمت ہی سے کرب کے نرغے میں آ گیا
ماحول زیست ایسے قضیے میں آ گیا
تھا ایک لفظ ہی تو کسی کے کلام میں
وہ جس سے بال قلب کے شیشے میں آ گیا
وہ علم و فن کہ جس کی کوئی انتہا نہیں
سمٹا ہے جب تو دل کے صحیفے میں آ گیا
طوفاں کی نذر میرا سفینہ نہیں ہوا
طوفان خود ہی میرے سفینے میں آ گیا
انعامؔ ہے یہ تیز قدم کاروان عمر
اب منزل اخیر کے زینے میں آ گیا
انعام تھانوی