ہم ایک ایسی اندھیر نگری سے منسلک ہیں
جہاں مسائل کے بھید کرسی سے منسلک ہیں
ہمارے پیروں میں بیڑیاں ہیں ملازمت کی
ہمارے وعدے ہماری چھٹی سے منسلک ہیں
اس ایک نکتے پہ ساری سائنس کھڑی ہوئی ہیں
کہ فارمولے خدا کی مرضی سے منسلک ہیں
تماش بینوں کی خواہشوں میں ہیں جسم رقصاں
مگر جو آنکھیں اداس کھڑکی سے منسلک ہیں
ہماری باتیں ، ہماری غزلیں ، ہماری ، نظمیں
اداس نسلوں کی رائیگانی سے منسلک ہیں
ہم ان بہادر سپاہیوں کی مثال ہیں جو
سروں کی بنیاد پر کہانی سے منسلک ہیں
ہمیں محبت سکھا رہے ہیں لطیف ساجد
جو ہیرو شیما و ناگاساکی سے منسلک ہیں
لطیف ساجد