MOJ E SUKHAN

ہم شہر محبت کو بسانے میں لگے ہیں

غزل

ہم شہر محبت کو بسانے میں لگے ہیں
کچھ لوگ مگر آگ لگانے میں لگے ہیں

تاریخ تو تاریخ ہے ہرگز نہ مٹے گی
ناداں ہیں جو تاریخ مٹانے میں لگے ہیں

افسوس کہ اس جنگ میں اب ظل الٰہی
خود اپنے ہی لشکر کو ہرانے میں لگے ہیں

وہ ہے کہ کہانی ہی بدلنے پہ تلا ہے
اور ہم ہیں کہ کردار نبھانے میں لگے ہیں

کچھ درد تو ظلمت نے دئے ہیں ہمیں لیکن
کچھ زخم چراغوں کو جلانے میں لگے ہیں

لوٹے ہیں تو اب ساتھ فقط گرد سفر ہے
اب جا کے کہیں ہوش ٹھکانے میں لگے ہیں

جو بات نفسؔ سارے زمانے پہ عیاں تھی
ہم ہیں کہ وہی بات بتانے میں لگے ہیں

نفس انبالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم