MOJ E SUKHAN

ہم نے آداب غم کا پاس کیا

ہم نے آداب غم کا پاس کیا

نقد جاں کو زیاں قیاس کیا

۔

زیست کے تجربات کا ہم نے

مثل آئینہ انعکاس کیا

۔

خبر آگہی کے پردے میں

عمر بھر ماتم حواس کیا

۔

تہمت شعلۂ زباں لے کر

صورت زخم التماس کیا

۔

کیسے اک لفظ میں بیاں کر دوں

دل کو کس بات نے اداس کیا

۔

آ گیا جب سلیقۂ تعمیر

قصر ہستی کو بے اساس کیا

۔

کیوں سحرؔ تم نے اپنے صحرا کو

موج دریا سے روشناس کیا

سحر انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم