MOJ E SUKHAN

ہمسائے میں شیطان بھی رہتا ہے خدا بھی

غزل

ہمسائے میں شیطان بھی رہتا ہے خدا بھی
جنت بھی میسر ہے جہنم کی ہوا بھی

یہ شہر تو لگتا ہے کباڑی کی دکاں ہے
کھوٹا بھی اسی مول میں بکتا ہے کھرا بھی

اس جسم کو بھی چاٹ گئی سانس کی دیمک
میں نے اسے دیکھا تھا کسی وقت ہرا بھی

جیسے کبھی پہلے بھی میں گزرا ہوں یہاں سے
مانوس ہے اس رہ سے مری لغزش پا بھی

اس دشت کو پہچان رہی ہیں مری آنکھیں
دیکھا ہوا لگتا ہے یہ ان دیکھا ہوا بھی

تم بھی تو کسی بات پہ راضی نہیں ہوتے
تبدیل نہیں ہوتا مقدر کا لکھا بھی

اب فیصلہ کن موڑ پہ آ پہنچا مرا عشق
دریا بھی ہے موجود یہاں کچا گھڑا بھی

ممکن ہے میں اس بار بھٹک جاؤں سفر میں
اس بار مرے ساتھ ہوا بھی ہے دیا بھی

یہ شہر فرشتوں سے بھرا رہتا ہے عامیؔ
اس شہر پہ اک خاص عنایت ہے سزا بھی

عمران عامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم