MOJ E SUKHAN

ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا

غزل

ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا
رواداری کی راہوں سے بھٹک جانا نہیں آتا

دیا امید کا رہبر بنا لیتا ہوں منزل تک
مجھے رستے کی تاریکی سے گھبرانا نہیں آتا

گلستان محبت میں کچھ ایسے پھول کھلتے ہیں
جنہیں موسم بدلنے پر بھی مرجھانا نہیں آتا

جہاں تک ہو سکے ہر حال میں ہم شاد رہتے ہیں
وفور یاس میں بھی اشک برسانا نہیں آتا

رہ منزل ہماری حوصلہ مندی سے واقف ہے
ہمیں بڑھنا تو آتا ہے پلٹ آنا نہیں آتا

خدائے دو جہاں نے یہ صلاحیت ہمیں دی ہے
کبھی مکر و ریا کا جال پھیلانا نہیں آتا

ملا صبر و قناعت کا اثاثہ مالک کل سے
یہ نعمت ہے ہمیں نعمت پہ اترانا نہیں آتا

تہی کاسہ لیے واپس کھنڈر میں لوٹ آئے ہیں
ہمیں احساس محرومی کو بھڑکانا نہیں آتا

تھپیڑے یاس و غم کے کھائے ہیں دن رات اے گوہرؔ
مگر اب تک فریب آرزو کھانا نہیں آتا

گلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم