MOJ E SUKHAN

ہوا میں دیپ جلانے کا یقیں کرتے ہیں

ہوا میں دیپ جلانے کا یقیں کرتے ہیں
یعنی اک وہم کو اس دل میں مکیں کرتے ہیں

ہم پہنتے ہیں تُجھے روز ہی زیور کی طرح
اور تمنا کو تِری اس میں نگیں کرتے ہیں

اپنی کم شکلی کا ہے زُعم کہ ہم دیکھتے ہیں
ہائے جو کام یہاں روز حسیں کرتے ہیں

تم کو پڑھتے ہیں کسی لازمی مضموں کی طرح
لوگ ایسے بھی یہاں خود کو فطیں کرتے ہیں

اِس پہ چلتا ہے ترےنام کا سِکہ صاحب
ہم بھی اس دِل پہ تُجھے تخت نشیں کرتے ہیں

میں تو اِن وقت پرستوں میں گھری ہوں زریں
جو کہ ہر جاہ ہی نگوں اپنی جبیں کرتے ہیں

زرین منور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم