MOJ E SUKHAN

ہوا کے حوصلے زنجیر کرنا چاہتا ہے

ہوا کے حوصلے زنجیر کرنا چاہتا ہے
وہ میری خواہشیں تصویر کرنا چاہتا ہے

نظر جس سے چرا کر میں گزرنا چاہتی ہوں
وہ موسم ہی مجھے تسخیر کرنا چاہتا ہے

وصال دید کو آنکھیں چھپانا چاہتی ہیں
مگر دل واقعہ تحریر کرنا چاہتا ہے

مزاج باد و باراں آشنا ہے شوق لیکن
نئے دیوار و در تعمیر کرنا چاہتا ہے

مرے سارے سوال اس کی نظر کے منتظر ہیں
وہ دانستہ مگر تاخیر کرنا چاہتا ہے

شہناز نور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم