MOJ E SUKHAN

ہوا کے ہاتھ پر خوشبو۔۔۔”

ہوا کے ہاتھ پر خوشبو
اداسی شام کی اوڑھے
سکوت بام و در چھو کر
محبت کا یقیں کیسے دلائے گی
ردائے دلنشیں شب کی
فضائے خوش گما نی میں
حسیں سپنے جو لائے گی
تو اپنی رائیگانی پر
بہت آنسو بہاۓ گی
پلٹ جائے گی یہ خوشبو
تھکی ہاری ہوا کی اس ہتھیلی پر
کہ جس پر گنگنائی تھی۔

ڈاکٹر حنا امبرین طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم