MOJ E SUKHAN

یہ جو دکھ رہا ہوں میں اس قدر اجالوں میں

غزل

یہ جو دکھ رہا ہوں میں اس قدر اجالوں میں
گفتگو بہت کی ہے آپ سے خیالوں میں

آپ کے حوالے سے مجھ کو یاد پڑتا ہے
میں کہاں کہاں پہ تھا آپ کے حوالوں میں

آپ گر چلے آؤ تو سبھی کو دکھلاؤں
ہو بھلا بیاں کیسے زندگی مثالوں میں

خواب کے جزیروں سے روز پھول چنتا ہوں
روز بانٹ دیتا ہوں آنے جانے والوں میں

رنگ زندگانی کے کروٹیں بدلتے ہیں
آپ ہی کے ہونٹوں پر آپ ہی کے گالوں میں

ندیم ناجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم