MOJ E SUKHAN

یہ زندگی مجھے تسلیم کیوں نہیں کرتی

غزل

یہ زندگی مجھے تسلیم کیوں نہیں کرتی
مرے شعور کی تنظیم کیوں نہیں کرتی

یہ کوئی چیز جو میرے خلاف ہے مجھ میں
مرے وجود کو تقسیم کیوں نہیں کرتی

اسے پسند نہیں ہیں مرے سوال تو پھر
کسی سوال میں ترمیم کیوں نہیں کرتی

ہمارے خواب امر ہیں تو پھر کوئی تعبیر
ہمارے خوابوں کی تفہیم کیوں نہیں کرتی

یہ وہ بدن دمِ شمشیر کیوں نہیں ہوتا
سپردگی مجھے دو نیم کیوں نہیں کرتی

ہے میرا خون ہی اولاد میں مری تو پھر
وہ مجھ ضعیف کی تعظیم کیوں نہیں کرتی

میں دنیا دار بلا کا ہوں پر مری دنیا
تعلقات کو تسلیم کیوں نہیں کرتی

میں جنگ جیتنے والوں میں کیوں نہیں ہوتا
شکست مائلِ تقدیم کیوں نہیں ہوتی

وہ پھاڑ پھاڑ کے سیتی تو ہے قبا محسن
کوئی ہنر مجھے تعلیم کیوں نہیں کرتی

محسن اسرار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم