MOJ E SUKHAN

یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے

یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے
کوئی دریوزہ گر اپنا کوئی تیرا سوالی ہے

حوادث سے نبرد آرائیوں کا کس کو یارا تھا
جنوں اپنا سلامت جس نے ہر افتاد ٹالی ہے

ترے اغماض کی خو سیکھ لی اہل مروت نے
کہ محفل درد کی اب صاحب محفل سے خالی ہے

حضوری ہو کہ مہجوری محبت کم نہیں اس سے
تب اپنا بخت عالی تھا اب اپنا ظرف عالی ہے

نمو کا جوش کچھ نظارہ فرما ہو تو ہو ورنہ
بہار اب کے برس خود پائمال‌ خشک سالی ہے

کسی کے لطف کم کو دیر لگتی ہے سوا ہوتے
چٹکنے تک تو ہر گل کی جبلت انفعالی ہے

شرف اتنا کہ غالبؔ کی زمیں میں ہے غزل گوہرؔ
وہ مضموں آفرینی ہے نہ وہ نازک خیالی ہے

گوہر ہوشیارپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم