MOJ E SUKHAN

یہ معجزہ بھی دکھاتی ہے سبز آگ مجھے

یہ معجزہ بھی دکھاتی ہے سبز آگ مجھے
پروں بغیر اڑاتی ہے سبز آگ مجھے

میں آیتوں کی تلاوت میں محو رہتا ہوں
ہر اک بلا سے بچاتی ہے سبز آگ مجھے

ہر ایک شاخ پہ رکھتی ہے زرد قندیلیں
پھر اس کے بعد جلاتی ہے سبز آگ مجھے

میں آب سرخ میں جب خواب تک پہنچتا ہوں
تو میرے سامنے لاتی ہے سبز آگ مجھے

حنائی پاؤں رگڑتے ہوئے نہ گھاس پہ چل
تجھے خبر ہے کہ بھاتی ہے سبز آگ مجھے

میں جب بھی جلتے ہوئے کوئلوں پہ سوتا ہوں
تو آسماں سے بلاتی ہے سبز آگ مجھے

زمیں پہ ناگ ہیں اور ان کے منہ میں خواب کی لو
کہانیوں سے ڈراتی ہے سبز آگ مجھے

دانیال طریر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم