MOJ E SUKHAN

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے

غزل

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے
ہمیں اک دوسرا اچھا لگا ہے

سمجھنا ہے اسے نزدیک جا کر
جسے مجھ سا برا اچھا لگا ہے

یہ کیا ہر وقت جینے کی دعائیں
یہاں ایسا بھی کیا اچھا لگا ہے

سفر تو زندگی بھر کا ہے لیکن
یہ وقفہ سا ذرا اچھا لگا ہے

مری نظریں بھی ہیں اب آسماں پر
کوئی محو دعا اچھا لگا ہے

ہوئے برباد جس کے عشق میں ہم
وہ اب جا کر ذرا اچھا لگا ہے

وہ سورج جو مرا دشمن تھا دن بھر
مجھے ڈھلتا ہوا اچھا لگا ہے

کوئی پوچھے تو کیا بتلائیں گے ہم
کہ اس منظر میں کیا اچھا لگا ہے

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم