MOJ E SUKHAN

یہاں پر دل لگانے کی سزائیں خُوب ملتی ہیں

یہاں پر دل لگانے کی سزائیں خُوب ملتی ہیں
مُحبت کرنے والوں کو جفائیں خُوب ملتی ہیں

کسِی ٹوٹے ہوئے دل پر ذرا سا پیار کا مرہم
اگر بُھولے سے بھی رکھ دیں دُعائیں خُوب ملتی ہیں

نجانے موسموں کو ان سے کیا بغض و عداوت ہے
بنِا مانگے جِنہیں غم کی گھٹائیں خُوب ملتی ہیں

تمُہاری یاد کے جلتے چراغوں کو شبِ غم میں
زمانے بھر کی طُوفانی ہوائیں خُوب ملتی ہیں

زبانِ بے بیانی ترجمانِ رنج و غم جب ہو
پسِ دیوار بھی اکثر صدائیں خُوب ملتی ہیں

لبادہ چاک ہو غُنچوں کا یا پٙت جھڑ کا منظر ہو
ہمیں تو چار سُو تیری ادائیں خُوب ملتی ہیں

وہ جن کی آنکھ سے لپٹی ہو وُسعت آسمانوں کی
اُنہیں اُونچی اُڑانوں کی فضائیں خُوب ملتی ہیں

زریںؔ منور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم